ہاپوڑ ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ نکلا معطل پولیس کانسٹیبل! جیل میں رچی گئی تھی پوری سازش
- خاکی پر لگا داغ! معطل سپاہی نے ہی صنعت کار کے گھر ڈکیتی کا پلان بنایا، پولیس نے کیا بڑا انکشاف
- جیل میں بنی گینگ، راج مستری کے بیٹے نے دی خبر اور پھر ہوئی ڈکیتی! پولیس مقابلے کے بعد 5 ملزمان گرفتار
ہاپوڑ۔ اتر پردیش کے ہاپوڑ ضلع میں ایک صنعت کار کے گھر ہوئی سنسنی خیز ڈکیتی کے معاملے میں پولیس اور ایس ٹی ایف نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس پوری واردات کا مبینہ ماسٹر مائنڈ کوئی عام مجرم نہیں بلکہ اتر پردیش پولیس کا ایک معطل کانسٹیبل وکّی گوتم ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وکّی گوتم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی اور بعد میں اس واردات کو انجام دیا گیا۔
جانکاری کے مطابق وکّی گوتم ضلع امروہہ کا رہنے والا ہے۔ سال 2024 میں اس کی تعیناتی سیتاپور میں تھی، لیکن وہ کافی عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر چل رہا تھا۔ بعد میں سال 2025 میں مرادآباد پولیس نے اسے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی پرانی کرنسی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ جیل کے دوران اس کی ملاقات کئی مجرموں سے ہوئی اور وہیں ایک بڑی واردات کی منصوبہ بندی کی گئی۔
پولیس کی جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صنعت کار کے گھر میں کام کر چکے ایک راج مستری کے بیٹے نے مبینہ طور پر گینگ کو گھر کے اندر کی معلومات فراہم کیں۔ گھر کا نقشہ، آنے جانے کے راستے اور قیمتی سامان کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد ملزمان نے ڈکیتی کی پوری تیاری کی۔
کھیڑا مغل علاقے میں چوروں کا قہر، ایک ہی رات میں چھ ٹیوب ویلوں سے اسٹارٹر اور کیبل چوری
واردات کے بعد پولیس اور ایس ٹی ایف مسلسل ملزمان کی تلاش میں لگی ہوئی تھی۔ خفیہ اطلاع اور سرویلنس کی مدد سے ملزمان کا سراغ ملا تو ٹیم نے انہیں گھیر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی کی۔ اس دوران صاحبِ عالم اور روہت نامی دو ملزمان کے پیر میں گولی لگی۔ دونوں زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
دیوبند میں "سمپورن سمادھان دیوس" کے دوران 68 شکایات آئیں، صرف 5 کا حل؛ عوام کے سوال برقرار
پولیس نے مبینہ ماسٹر مائنڈ وکّی گوتم سمیت گڈو، ٹنکو، صاحبِ عالم اور روہت کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے قبضے سے لوٹی گئی نقدی، زیورات اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اب پولیس اس گینگ کے دوسرے ساتھیوں اور پورے نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک ڈکیتی کا نہیں بلکہ پولیس محکمہ کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عوام کی حفاظت کی ذمہ داری جن کے کندھوں پر ہوتی ہے، اگر انہی میں سے کوئی شخص جرم میں ملوث پایا جائے تو یہ ایک بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔ فی الحال پولیس اور ایس ٹی ایف اس کارروائی کو اپنی بڑی کامیابی مان رہی ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

