عوام کا اندرا پارک یا بااثر لوگوں کی پارکنگ؟ دیوبند میں عوامی پارک کی حالت پر اٹھنے لگے سوال
- بچوں کے کھیلنے اور بزرگوں کے ٹہلنے کی جگہ پر گاڑیوں کا قبضہ، مقامی لوگوں میں ناراضگی
- عوام کا سوال: کیا دیوبند کے پارک اب سیر و تفریح کے لیے نہیں بلکہ پارکنگ کے لیے رہ گئے ہیں؟
دیوبند: خانقاہ علاقے میں واقع اندرا پارک ان دنوں مقامی لوگوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک زمانے میں یہ پارک صبح و شام چہل قدمی کرنے والوں، بچوں کی کھیل کود اور بزرگوں کے آرام کی پسندیدہ جگہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پارک اپنی اصل شناخت کھوتا جا رہا ہے علاقے کے لوگوں کے مطابق پارک کے اندر نجی گاڑیوں اور بعض سرکاری گاڑیوں کی موجودگی معمول بنتی جا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ کو عوامی سہولت اور سرسبز ماحول کے لیے بنایا گیا تھا، وہاں گاڑیوں کی پارکنگ پارک کی خوبصورتی اور ماحول دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ارجن ایوارڈی سے لے کر ورلڈ چیمپئنز تک ایک اسٹیج پر جمع؛ 184 کھلاڑیوں کے اعزاز میں شاندار تقریب منعقد
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پارک کے اندر کھڑی گاڑیاں نہ صرف سبزہ زار کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ بچوں اور بزرگوں کے لیے دستیاب جگہ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر عوامی پارکوں کا یہی حال رہا تو آنے والی نسلوں کے لیے کھلے میدان اور سبز مقامات کم ہوتے جائیں گے۔ ایک مقامی بزرگ نے کہا کہ جہاں پہلے لوگ تازہ ہوا لینے اور ورزش کرنے آتے تھے، وہاں اب گاڑیاں کھڑی نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارک عوام کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے۔
مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف تعمیراتی کاموں اور سرکاری استعمال کی وجہ سے پارک کا اصل رقبہ متاثر ہوا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پارک کے مختلف حصوں میں ہونے والی سرگرمیوں کی وجہ سے عوامی استعمال کی جگہ پہلے کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ ان تعمیرات اور استعمال کے حوالے سے حتمی موقف متعلقہ ادارے ہی دے سکتے ہیں، لیکن مقامی سطح پر اس حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پارک کسی بھی شہر کے لیے تازہ ہوا اور صحت مند ماحول کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر ان مقامات کا استعمال ان کے اصل مقصد کے بجائے کسی اور کام کے لیے ہونے لگے تو اس کا اثر ماحول اور عوامی سہولت دونوں پر پڑتا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی پارکوں کا تحفظ صرف بلدیہ یا انتظامیہ ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اندرا پارک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پارک صرف عوامی استعمال اور تفریح کے لیے ہی برقرار رہے۔ اگر کہیں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو متعلقہ حکام مناسب کارروائی کریں۔ اندرا پارک کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے بعد اب شہریوں کی نظریں انتظامیہ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو شہر کے یہ سبز مقامات اپنی اصل شناخت کھو بیٹھیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتی ہے اور کیا اندرا پارک دوبارہ اپنی اصل شکل میں عوام کے لیے محفوظ رہ پاتا ہے یا نہیں۔



