دیوبند میں "سمپورن سمادھان دیوس" کے دوران 68 شکایات آئیں، صرف 5 کا حل؛ عوام کے سوال برقرار
- ایک ہی چھت کے نیچے تمام افسران موجود، پھر بھی 92 فیصد سے زیادہ لوگ مایوس واپس لوٹے
- لاکھوں روپے کے انتظامات کے باوجود "سمپورن سمادھان دیوس" میں صرف 7.35 فیصد مسائل حل، کارکردگی پر سوالات
دیوبند۔ عوامی مسائل کو ایک ہی جگہ پر سننے اور حل کرنے کے مقصد سے دیوبند کے اسٹیٹ ہائی وے پر واقع بلاک آڈیٹوریم میں "سمپورن سمادھان دیوس" کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس اینڈ ریونیو) سلیل کمار سمیت تحصیل اور بلاک سطح کے تمام متعلقہ افسران موجود رہے، لیکن دن کے آخر میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
اپنی شکایات کے حل کی امید لے کر مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 68 افراد بلاک آڈیٹوریم پہنچے۔ اس دوران ریونیو، نلکوب، راشن، پولیس، چک بندی، بلاک اور بجلی محکمہ سمیت مختلف محکموں سے متعلق شکایات درج کرائی گئیں۔
پونم متل قتل کیس میں بڑا انکشاف، پولیس مقابلے کے بعد دو ملزمان گرفتار، ایک کے پیر میں گولی لگی
حیرت کی بات یہ رہی کہ اتنے سارے افسران کی موجودگی کے باوجود موقع پر صرف 5 شکایات ہی حل ہو سکیں۔ اعداد و شمار کے مطابق "سمپورن سمادھان دیوس" میں صرف 7.35 فیصد شکایات کا حل ہو سکا، جبکہ 63 شکایات باقی رہ گئیں۔ یعنی 92 فیصد سے زیادہ لوگ اپنی شکایات کے مکمل حل کے بغیر صرف یقین دہانی لے کر واپس چلے گئے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جب ضلع اور تحصیل کے تمام بڑے افسران اور ان کا عملہ ایک جگہ جمع ہوتا ہے تو اس پر سرکاری خزانے سے کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اس خرچ کی تفصیلات عام طور پر عوام کے سامنے نہیں آتیں۔
ایسے میں لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب نتیجہ صرف 7.35 فیصد نکل رہا ہے تو ایسے بڑے پروگراموں کی کامیابی کو کس بنیاد پر دیکھا جائے؟
ٹیکسی ہمارا، عیش تمہاری؟ دیوبند میونسپلٹی کے 46 کروڑ 58 لاکھ کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم
پروگرام کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سلیل کمار نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مقررہ وقت میں ان کا حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس موقع پر ایس ڈی ایم وجے پرکاش سنگھ، تحصیلدار پشپانکر دیو، نائب تحصیلدار مونیکا چوہان، بی ڈی او دیوبند امیت نارنگ، بی ڈی او ناگل اور دیگر افسران بھی موجود رہے۔
دیوبند میونسپلٹی کا میگا اسکینڈل: کیا 'موٹے لفافوں' کے دم پر چل رہا ہے ڈمی ملازمین کا کالا دھندا؟
"سمپورن سمادھان دیوس" کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور ان کے مسائل ایک ہی جگہ پر حل ہو جائیں۔ لیکن دیوبند میں سامنے آنے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
جب تک ایسے پروگراموں میں زیادہ تعداد میں شکایات کا موقع پر حل نہیں ہوگا، تب تک ان کی افادیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔ اب لوگوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ باقی 63 شکایات کا حل کتنی جلدی اور کتنی سنجیدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
رپورٹ: دین رضا

