دیوبند میونسپلٹی کا میگا اسکینڈل: کیا 'موٹے لفافوں' کے دم پر چل رہا ہے ڈمی ملازمین کا کالا دھندا؟
- تصویروں کی آڑ میں چھپا بدصورت سچ؛ دیوبند کی عوام اب فوٹو بازی نہیں، نتائج چاہتی ہے
- دیوبند میں اصلی صفائی ملازمین کی جان سے کھلواڑ، برسوں سے ہیلتھ چیک اپ غائب؛ ملائی چاٹنے میں مصروف حکمران، فائلوں میں 'فوج'، زمین پر سناٹا!
- دیوبند کے ترقیاتی کاموں کو لے کر میونسپل چیئرمین اور ان کے حواریوں کو حساس بننا ہوگا، 'میمورنڈم' کے کھیل سے آگے بڑھنا ہوگا
دیوبند: سوشل میڈیا اور اخبارات میں چمکائی گئی اس تصویر کو ایک بار پھر غور سے دیکھیں۔ ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا (میمورنڈم) تھامے، چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ بکھیرتے یہ وہی عوامی نمائندے ہیں، جو عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ انہیں عید الاضحیٰ پر شہر کی صفائی اور پانی کی بڑی فکر ہے۔ لیکن اس 'دکھاوٹی تماشے' کے پیچھے جو گھناؤنا سچ انگڑائیاں لے رہا ہے، اسے جان کر دیوبند کی عوام کا خون کھول اٹھے گا۔ یہ کوئی عام انتظامی ملاقات نہیں ہے، بلکہ بدعنوانی کے ناقابل تسخیر قلعے کو بچائے رکھنے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور ناکام کوشش ہے۔ دیوبند میونسپلٹی آج ترقی کا مرکز نہیں، بلکہ رسوخ داروں اور بدعنوانوں کی عیاش گاہ بن چکی ہے!
صفائی کا نظام درست کرنے کا ڈھول پیٹنے والے ان رہنماؤں سے آج دیوبند شہر کی عام عوام سیدھا سوال کر رہی ہے کہ کیا شہر کی ترقی میمورنڈم سے آگے بھی بڑھ پائے گی یا نہیں؟ معتبر ذرائع نے میونسپلٹی کے صفائی محکمہ کے جس کالے کارنامے کا پردہ فاش کیا ہے، وہ چونکا دینے والا ہے۔ شہر میں یہ بحث اب عام ہو چکی ہے کہ جتنے سبھاسدوں (کونسلروں) کی جیبیں گرم کی جاتی ہیں، ٹھیک اتنے ہی 'ڈمی' (فرضی) صفائی ملازمین فائلوں میں درج کر دیے جاتے ہیں۔ ان ڈمی ملازمین کے نام پر ہر ماہ میونسپلٹی کی تجوری سے لاکھوں روپے کی تنخواہ نکالی جا رہی ہے، جو سیدھی کچھ منتخب سبھاسدوں اور افسران کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ کمال یہ ہے کہ ان کاغذی بھوتیا ملازمین کو آج تک دیوبند کے کسی بھی وارڈ میں جھاڑو لگاتے یا نالہ صاف کرتے کیوں نہیں دیکھا گیا؟ جب زمین پر عملہ ہی غائب ہے تو تہوار پر صفائی کا نظام درست کرنے کا دعویٰ کیا صرف عوام کو بیوقوف بنانے کا ذریعہ ہے؟
ایک طرف صوبائی حکومت 'خواتین کو بااختیار بنانے' اور 'مشن شکتی' کا ڈھول پیٹتی ہے، وہیں دوسری طرف دیوبند میونسپل چیئرمین کے مبینہ خاص اور چہیتے سبھاسدوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے تیوروں سے ہمارے اور آپ کے خاندانوں کی خواتین بھی ان کے راج میں محفوظ نہیں رہیں۔ اطلاع ملی ہے کہ مردم شماری کے بہانے ان رسوخ داروں نے خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور بدتہذیبی کی حدیں پار کر دی ہیں۔ جب اسی عوام نے ان سے ترقی اور بنیادی سہولیات پر جواب مانگا تو ان نام نہاد عوامی نمائندوں کو سانپ سونگھ گیا۔ آخر اقتدار کے تحفظ میں پل رہے ان چہروں کو کس کا خوف ہوگا؟
دیوبند کی گلیوں میں آج بچہ بچہ چلا کر کہہ رہا ہے کہ ان کچھ خاص اور قریبی عوامی نمائندوں کی زبان پر موٹے لفافوں کا ایسا مضبوط ٹیپ چپکا ہوا ہے جس کے آگے شہر کی عام عوام یا آپ اور میرے خاندان کا خوددارانہ وقار اور عوام کی چیخیں بے اثر ہو چکی ہیں۔ جب ملائی چاٹنے کی بات آتی ہے تو یہ آگے رہتے ہیں، لیکن جب حق کی بات آئے تو ان کی آواز حلق سے باہر نہیں نکلتی۔
تصویر میں نظر آنے والے سورماؤں کی مبینہ ترقی ایک گلی سے آگے بڑھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ میونسپل چیئرمین کے چہیتوں اور خاص ووٹ بینک والی گلیوں کو تو چمکایا جا رہا ہے لیکن عام اور غریب بستیوں کو جہنم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پانی کی قلت، مہینوں اور ہفتوں سے بند پڑی اسٹریٹ لائٹس اور سڑکوں پر بہتا سیور اس بات کا گواہ ہے کہ ترقی صرف کاغذوں پر اور چند خاص لوگوں کی چوکھٹ تک محدود ہو چکی ہے۔
بدعنوانی کا یہ کھیل جتنا گھناؤنا ہے، وہی اصل صفائی ملازمین کے ساتھ کیا جانے والا برتاؤ اتنا ہی غیر انسانی ہے۔ جو غریب ملازم ہڈ توڑ محنت کر کے اس شہر کی گندگی صاف کرتے ہیں، انہیں میونسپلٹی نے بھگوان بھروسے چھوڑ دیا ہے۔ بغیر گلوز، بغیر ماسک اور بغیر بوٹس کے، یہ بے قصور ملازم صرف ایک ہوائی چپل پہن کر گہرے اور زہریلی گیسوں سے بھرے نالوں میں اترنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں دیوبند میونسپلٹی نے ان صفائی ملازمین کا کتنی بار ہیلتھ چیک اپ کرایا ہے؟ اس کا جواب دینے کی حیثیت نہ تو میونسپل چیئرمین میں ہے اور نہ ہی ان کے ان چمچوں میں جو بدعنوانی کی ملائی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کیا ان غریبوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے؟
یہ جو ہاتھ میں میمورنڈم لے کر فوٹو کھنچوانے کی پبلسٹی اسٹنٹس کی گئی ہے، عوام اب اسے سرے سے مسترد کرتی ہے۔ مقدس تہوار عید الاضحیٰ کی آڑ میں اپنے بدعنوانی کو چھپانے کا یہ کھیل اب اور نہیں چلے گا۔ اگر تہوار پر بھی دیوبند کے محلوں میں گندگی کا انبار لگا، یا کسی غریب صفائی ملازم کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہوا، تو اس لاپرواہی کے لیے سیدھے طور پر ذمہ داری کون لے گا؟ میونسپل چیئرمین یا ان کے لفافہ خور چہیتے؟ دیوبند کی عوام جاگ چکی ہے، اب فوٹو بازی سے کام نہیں چلے گا، پائی پائی کا حساب دینا ہوگا!
رپورٹ - دین رضا

