پہلے مینجمنٹ کمیٹی ختم، پھر ہائی کورٹ کی انٹری اور اب الیکشن افسر کا استعفیٰ! کے ایل جنتا انٹر کالج کا معاملہ مزید گرم
- کے ایل جنتا انٹر کالج الیکشن میں بڑا موڑ! الیکشن افسر نے چھوڑا عہدہ، کیا ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے رکی انتخابی کارروائی؟
- 'جب معاملہ ہائی کورٹ میں ہے تو الیکشن کی جلدی کیوں؟' منیجر دیپک راج سنگھل کا بڑا الزام، دوبارہ عدالت جانے کی وارننگ
دیوبند۔ دیوبند کے معروف کے ایل جنتا انٹر کالج کی مینجمنٹ کمیٹی کے انتخابات کو لے کر جاری تنازعہ اب ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ہائی کورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود انتخابات کرانے کی خبروں کے درمیان الیکشن افسر مدن پال سنگھ کے اچانک استعفیٰ نے پورے معاملے کو مزید دلچسپ اور سنجیدہ بنا دیا ہے۔ الیکشن افسر کے استعفے کے بعد اب انتخابات پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تعلیمی حلقوں، سیاسی رہنماؤں اور کالج سے وابستہ لوگوں کے درمیان اس معاملے کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔
اس معاملے کی شروعات 15 مئی کو ہوئی تھی، جب مشترکہ ڈائریکٹر تعلیم، سہارنپور نے کالج کی مینجمنٹ کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے خلاف کالج کے موجودہ منیجر دیپک راج سنگھل اور دیگر عہدیداروں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم حقائق اور قواعد کے مطابق نہیں ہے۔
29 مئی کو ہائی کورٹ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ایک عبوری حکم جاری کیا۔ عدالت نے تمام فریقوں سے جواب طلب کرتے ہوئے اگلی سماعت جولائی کے تیسرے ہفتے میں مقرر کی ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاملے میں غیر ضروری جلد بازی نہ کی جائے اور متنازعہ حکم کو نافذ کرنے میں احتیاط برتی جائے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن افسر مدن پال سنگھ کو خدشہ تھا کہ اگر عدالت کے حتمی فیصلے سے پہلے انتخابات کرائے گئے تو یہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی دوران انہوں نے اپنی خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ استعفیٰ کی اصل وجہ کو لے کر مختلف قسم کی چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں۔
منیجر دیپک راج سنگھل نے الزام لگایا ہے کہ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انتخابات کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور جولائی میں دوبارہ سماعت ہونی ہے تو ایسے وقت میں انتخابات کرانے کی کوئی بھی کوشش مناسب نہیں ہوگی۔
ٹیکسی ہمارا، عیش تمہاری؟ دیوبند میونسپلٹی کے 46 کروڑ 58 لاکھ کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم
انہوں نے واضح کیا کہ اگر عدالت کے حکم کے خلاف جا کر انتخابات کرانے کی کوشش کی گئی تو وہ دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ کے ایل جنتا انٹر کالج علاقے کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے انتخابات کا معاملہ اب صرف کالج تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی، انتظامی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
الیکشن افسر کے استعفے کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا انتخابات فی الحال ملتوی ہوں گے یا پھر محکمہ کسی نئے الیکشن افسر کی تقرری کرے گا؟ فی الحال پورے معاملے کا فیصلہ ہائی کورٹ کی آئندہ سماعت پر منحصر ہے۔ جولائی کے تیسرے ہفتے میں ہونے والی سماعت پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

