سہارنپور میں منشیات فروشوں پر ڈبل کارروائی، لیکن دیوبند میں آخر کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے اسمیک اور گانجے کا کاروبار
- کوتوالی دیہات اور نکوڑ پولیس کی بڑی کامیابی، دیوبند میں منشیات فروش اب بھی بے خوف!
- جب ضلع بھر میں "آپریشن سویرا" جاری ہے تو دیوبند میں نوجوانوں کو تباہ کرنے والے منشیات فروشوں پر کارروائی کب ہوگی؟
- سہارنپور میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت مہم، مگر دیوبند میں منشیات کا جال بدستور پھیل رہا ہے
سہارنپور/دیوبند: اتر پردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے جرائم اور منشیات کے خلاف چلائی جا رہی سخت مہم کے تحت سہارنپور پولیس ان دنوں پوری سرگرمی کے ساتھ میدان میں نظر آ رہی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی ہدایت پر جاری خصوصی مہم "آپریشن سویرا" کے تحت ضلع بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں پولیس کو ایک ہی دن میں دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ کوتوالی دیہات پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک شاطر منشیات فروش کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے تقریباً 320 گرام چرس برآمد ہوئی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ چرس نوجوانوں تک پہنچائی جانی تھی، لیکن بروقت کارروائی کے باعث یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
دوسری جانب کوتوالی نکوڑ پولیس نے بھی ایک اور منشیات فروش کو گرفتار کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ ضلع میں نشے کا کاروبار کرنے والوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بچی۔ ضلع کے دیگر علاقوں میں ہو رہی مسلسل کارروائیوں کے باوجود دیوبند کا نام بار بار سوالات کے گھیرے میں آ رہا ہے۔
مقامی لوگوں اور ذرائع کے مطابق دیوبند شہر اور اس کے اطراف کے دیہات میں اسمیک، گانجا اور دیگر نشہ آور اشیاء کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔ محلے ہوں یا دیہات، کئی علاقوں میں نوجوان اس لعنت کی زد میں آتے جا رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب ضلع کے دوسرے تھانوں کی پولیس منشیات فروشوں کو گرفتار کر رہی ہے تو دیوبند میں سرگرم ان عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کیوں نظر نہیں آ رہی؟
وِکاس نگر واقعہ پر مولانا محمود مدنی کا بڑا بیان، کہا: “بے گناہ شخص کا قتل انسانیت کے خلاف ہے
علاقے کے باشعور لوگوں کا کہنا ہے کہ منشیات صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ اسمیک اور گانجا جیسے خطرناک نشے نوجوانوں کو جرائم، بیماری اور تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگر وقت رہتے اس کاروبار کو نہ روکا گیا تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
سہارنپور پولیس کا نعرہ ہے: "نشے کے اندھیرے سے زندگی کے اجالے کی طرف" ضلع کے کئی علاقوں میں اس مہم کے مثبت نتائج بھی نظر آ رہے ہیں، لیکن دیوبند میں اس مہم کی حقیقی کامیابی اسی وقت مانی جائے گی جب یہاں سرگرم منشیات فروشوں کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
عوام کا اندرا پارک یا بااثر لوگوں کی پارکنگ؟ دیوبند میں عوامی پارک کی حالت پر اٹھنے لگے سوال
اب عوام کی نظریں پولیس اور انتظامیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ جس طرح کوتوالی دیہات اور نکوڑ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی ہے، کیا اسی طرح دیوبند میں بھی کوئی بڑا آپریشن ہوگا یا پھر نوجوان نسل کو تباہ کرنے والے یہ سوداگر اسی طرح آزاد گھومتے رہیں گے؟

