کرنٹ' بند ہوتے ہی سوشل میڈیا پر غیر قانونی کھنن کا شور؛ تھیلا چھاپ 'چنٹوؤں' کی دلالی اور کھنن مافیا کے گٹھ جوڑ کا کچا چٹھا!
- بھایل پھاٹک برج کی پرمیشن اور کالونیوں میں مٹی کے غیر قانونی بھراؤ کا کھیل؛ آخر کھنن مافیا کے 'ننگے ناچ' پر ضلع ٹاسک فورس خاموش کیوں؟
- 'پوری خبر تھوڑی دیر میں...' لکھ کر غائب ہونے والے بلیک میلروں کی پول کھل گئی؛ روشن کالونی ہنگامے کے بعد بھی دیوبند میں انتظامیہ بے بس یا ملی بھگت؟
دیوبند۔ ہمارے علاقے میں ان دنوں سوشل میڈیا کے کچھ خود ساختہ سورما اور غیر قانونی کھنن مافیا کے درمیان چل رہی 'نورا کشتی' عوام میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں غیر قانونی کھنن کی نام نہاد 'بریکنگ نیوز' گردش کرتی نظر آتی ہے، لیکن غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ان پوسٹوں میں مٹی سے بھری ٹرالیوں سے زیادہ پولیس چوکیوں اور مقامات کی تصویریں دکھائی جاتی ہیں۔
ہر پوسٹ کے نیچے لکھا ہوتا ہے: "پوری خبر تھوڑی دیر میں شائع کی جائے گی..." لیکن صاحب! وہ "تھوڑی دیر" کبھی نہیں آتی۔ نہ کوئی مکمل خبر سامنے آتی ہے اور نہ ہی کھنن مافیا کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے۔
عوام کا اندرا پارک یا بااثر لوگوں کی پارکنگ؟ دیوبند میں عوامی پارک کی حالت پر اٹھنے لگے سوال
معتبر ذرائع کے مطابق جو تھیلا چھاپ عناصر سوشل میڈیا پر غیر قانونی کھنن کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈرامہ کرتے ہیں، ان کے روابط اندر ہی اندر کھنن مافیا سے جڑے ہوئے بتائے جاتے ہیں۔ ان کا پورا نظام 'منتھلی' اور 'کرنٹ' پر چلتا ہے۔ جیسے ہی مافیا کی طرف سے آنے والا کرنٹ بند ہوتا ہے یا وولٹیج کم ہوتا ہے، یہ لوگ اچانک پوسٹیں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر جیسے ہی بند کمروں میں 'سیٹنگ' مکمل ہو جاتی ہے، چاروں طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ادھوری پوسٹوں میں کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ مٹی کہاں سے آ رہی ہے، کہاں جا رہی ہے اور کہاں ڈالی جا رہی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ 'چنٹو' کبھی متعلقہ محکموں کا نام لینے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔ محکمۂ کھنن، ضلع کھنن افسر، ضلع انتظامیہ، محکمہ مال، تحصیل انتظامیہ، لیکھ پال، قانون گو، ایس ڈی ایم یا آر ٹی او کے خلاف ایک سطر لکھنا تو دور، ان سے سوال پوچھنے میں بھی ان کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں اس بڑے کھیل کی جو ترقی کے نام پر جاری ہے۔ بھایل پھاٹک پر تقریباً 27 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اوور برج تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے مٹی کے بھراؤ کی سرکاری اجازت لی گئی ہے، لیکن کھنن مافیا نے اس اجازت کو گویا غیر قانونی کھنن کا لائسنس سمجھ لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دنوں سے رات کے اندھیرے میں جو مٹی برج کے لیے لائی جا رہی تھی، اس کا رخ بدل دیا گیا۔ الزام ہے کہ برج کی آڑ میں یہی مٹی بلال مسجد کے قریب نئی کالونی میں کچھ بااثر لوگوں کے نجی پلاٹوں میں ڈالی جا رہی ہے۔ پوری رات چلنے والے اس کھیل کے سامنے پورا نظام بے بس دکھائی دے رہا ہے۔
آپ کو روشن کالونی کا وہ ہنگامہ یاد ہی ہوگا جو چند روز قبل رات تقریباً دو بجے ہوا تھا۔ اس وقت مبینہ طور پر کھنن مافیا علاقے کے لوگوں سے الجھنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ ویڈیوز میں کچھ افراد یہ کہتے ہوئے بھی نظر آئے تھے کہ "ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔" ویڈیوز وائرل ہوئیں، لوگوں نے دیکھیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد آج تک ضلع ٹاسک فورس نے اس معاملے میں کوئی مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی؟ آخر کون سی مجبوری یا دباؤ ہے جس کے سامنے پورا نظام خاموش بیٹھا ہے؟
ارجن ایوارڈی سے لے کر ورلڈ چیمپئنز تک ایک اسٹیج پر جمع؛ 184 کھلاڑیوں کے اعزاز میں شاندار تقریب منعقد
جب محافظ ہی خاموش ہو جائیں اور خبر دکھانے والے خود دلالی کے دھندے میں اتر جائیں تو دیوبند کی عوام اپنی فریاد لے کر کہاں جائے؟ کیا ترقیاتی منصوبوں کی اجازت کی آڑ میں پورے علاقے کی سڑکوں کو تباہ کرنے اور غیر قانونی پلاٹنگ میں مٹی کھپانے کی کھلی چھوٹ دی جا سکتی ہے؟



