ان دنوں زیرِ بحث ہے... عیدگاہ دیوبند
- عیدگاہ دیوبند کا تنازع: 'کیا دیوبند علماء اور بزرگوں سے خالی ہو چکا ہے؟'— بیرونی شخص کو صدر بنانے کی دلیل پر سلگ اٹھا دیوبند!
- عیدگاہ دیوبند کی تاریخ سے لے کر آج کے 'پگڑی' کے کھیل تک؛ چند بڑوں کے فیصلوں اور قوم کے جذبات پر تیکھا پرہار، 'دیوبند ٹوڈے' کا بڑا انکشاف
- آخر چار پانچ لوگ اپنی مرضی سے کیسے طے کر سکتے ہیں صدر؟"— دیوبند عیدگاہ کمیٹی کے انتخاب اور ممبرشپ کے بند دروازوں پر اٹھا بڑا سوال
گزشتہ عرصے میں ہم نے سب سے زیادہ دارالعلوم، عیدگاہ دیوبند اور بلدیہ دیوبند کے بارے میں لکھا۔ یہ کسی غصے، ناراضگی، عداوت، دشمنی یا ذاتی مفاد کی وجہ سے نہیں تھا، اخبارات کی اشاعت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو تحریری شکل میں حکومت یا ذمہ داران کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کا حل نکل سکے۔ ہم بھی یہی کر رہے تھے۔
مگر ہم نے محسوس کیا کہ دیوبند کی عوام حد درجہ مصلحت پسند، ضرورت مند اور بزدل ہو چکی ہے۔ ان کی زبانوں کو زنگ لگ چکا ہے اور ہاتھ پاؤں گویا معذور ہو گئے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی ہو، منہ میں دہی جمائے رکھتے ہیں۔ آدھا دیوبند دارالعلوم، دارالعلوم وقف، مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی، مسلم فنڈ، مدنی آئی ہاسپٹل، مدنی آئی ٹی آئی وغیرہ میں ملازمت یا کسی نہ کسی فائدے کی وجہ سے نیم مردہ کیفیت میں رہتا ہے۔ ہمیں خاندان کے چھوٹے بڑے بزرگوں نے بھی یہی مشورہ دیا کہ ان موضوعات پر لکھنا بند کر دیا جائے، لہٰذا ہم بھی خاموشی اختیار کرنے کا ارادہ کر چکے تھے۔
رضاکارانہ فیصلہ، قانونی حق، سیاسی دباؤ اور بدلتے معاشرے کی تصویر
دوسری جانب جناب سہیل صدیقی صاحب، مینیجر مسلم فنڈ دیوبند اور خواجہ انس صدیقی صاحب، جو عیدگاہ اور مزارِ قاسمی کے سکریٹری ہیں، ان سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ہم خود کو ان کا خادم سمجھتے ہیں، ہماری ہر خوشی اور غمی ان حضرات سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں ان کے بارے میں اچھا یا برا لکھنا بھی ہماری غیرت کو گوارا نہیں تھا۔ لیکن دوسری طرف عیدگاہ کمیٹی نے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا نہیں کیے۔ کبھی کسی چھوٹے یا بڑے قصباتی آدمی کو اہمیت نہیں دی۔
اب جب یہ خبر سامنے آئی کہ حضرت مولانا قاری عفان صاحب کو عیدگاہ کمیٹی کا صدر بنایا جا رہا ہے، اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ دیوبند میں کوئی عالم یا مناسب آدمی موجود نہیں، تو دل تڑپ اٹھا۔ اجلاس میں موجود صرف دو افراد نے یہ کہا کہ وہ باہر کے ہیں، تب احساس ہوا کہ واقعی دیوبند علماء اور بزرگوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ شاید اسی لیے کبھی ڈاکٹر انور سعید صاحب کو عہدہ دیا گیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب نسیم انصاری ایڈوکیٹ اور اقبال انصاری کو جمعیت علماء ہند دیوبند قصبے کا صدر بنایا گیا تھا۔ گویا علماء کی یہ کمی تو عرصۂ دراز سے یہاں ہے۔
عیدگاہ کی تاریخ سے دیوبند کے دو فیصد لوگ بھی واقف نہیں، ننانوے فیصد لوگوں کو صرف اس بات سے مطلب ہے کہ عید کی نماز کون پڑھا رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند پر ناجائز قبضے کے بعد پہلی عید پر مولانا اسعد مدنی رحمہ اللہ خود ہی نماز پڑھانے پہنچ گئے، جبکہ اس سے پہلے حکیم الامت قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ وہاں موجود لوگوں نے اس کی مخالفت کی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی وہاں موجود تھے۔ مولانا اسعد صاحب کے حامیوں نے ان کی وضع قطع پر اعتراضات کھڑے کر دیے، یہ سب پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔ بعد میں نماز حضرت مولانا خورشید صاحب رحمہ اللہ نے پڑھائی۔
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے درمیان مولانا اسعد صاحب نے پورا گیم بدل دیا اور لکھنو جا کر عیدگاہ پر بھی قبضہ حاصل کر لیا۔ ایک عرصے تک وہی نماز پڑھاتے رہے۔ سن 2005 میں جب 88 مظلوم ملازمین اور لاکھوں اراکین کے جذبات کو قربان کر کے عدالتی صلح ہوئی تو تحفے کے طور پر مولانا سالم قاسمی صاحب رحمہ اللہ سے نمازِ عید ادا کرائی گئی، جبکہ پورے مدنی خاندان نے مسجدِ قدیم میں نماز ادا کی۔ اس وقت یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ بازیگر کس طرح دھوکہ دیتے ہیں۔
بعد میں قاری عثمان صاحب کے سر پر زبردستی پگڑی باندھ دی گئی اور انہوں نے عیدگاہ کی امامت شروع کر دی۔ کس حیثیت سے؟ معلوم نہیں۔ اصل مخالفت کا وقت یہی تھا، لیکن اس وقت تک دیوبند والوں کا خون پانی بن چکا تھا، پھر یہی پگڑی قاری عفان صاحب کے سر باندھ دی گئی۔ کیوں؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ جامع مسجد کے ساتھ ساتھ عیدگاہ کی امامت بھی مل گئی۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہیں نہ کوئی بے عزتی محسوس ہوتی ہے، نہ شرم آتی ہے، نہ کسی کے حق کا خیال آتا ہے، بس بے حسی کے ساتھ مصلّے پر کھڑے ہو جاتے ہیں، چاہے مالِ مفت کا ہو، حرام کا ہو یا قبضے کا۔ مرحوم حسیب صدیقی صاحب نے اپنے انتقال سے قبل خواجہ انس صدیقی کو صدر مقرر کر دیا تھا۔ اب یہی صدارت کی پگڑی دوبارہ اسی سر پر باندھنے کی تیاری ہو رہی ہے، گویا بات بیس پچیس سال آگے جا رہی ہے۔ بھائی! آپ چار پانچ لوگوں کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ اپنی مرضی سے صدر مقرر کریں؟ کیا آپ نے لوگوں کو مردہ سمجھ لیا ہے؟ کیا اس عیدگاہ کا انتقال نامہ آپ کے نام ہو چکا ہے؟ ہندوستان کی کتنی عیدگاہوں میں باہر کے امام اور صدر ہیں؟ اور کتنی مساجد، جامع مساجد اور عید گاہوں کے صدر، متولی عالم و فاضل ہیں؟ اس کا جواب بھی دیا جانا چاہیے۔
کمیٹی کو قاری عفان صاحب کے انتخاب سے پہلے عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ: کیا واقعی دیوبند میں کوئی عالم موجود نہیں؟ صدارت اور امامت ایک ہی شخص کو کیوں؟ باہر کے آدمی کو ہی کیوں؟
نماز پڑھانے کے لیے مفتی عارف قاسمی، مفتی واصف قاسمی، قاری حافظ فیضان، مولانا احمد خضر شاہ مسعودی، مولانا سفیان قاسمی، ڈاکٹر شکیب قاسمی، مولانا سالم اشرف قاسمی سمیت ہزاروں نام موجود ہیں۔ اسی طرح صدارت کے لیے فہیم نمبردار، راحت خلیل صدیقی، ریاض محمود، ڈاکٹر نواز دیوبندی، عظیم الحق، ڈاکٹر قمر الزماں قریشی، سید حارث، ڈاکٹر اختر سعید، سعید انصاری، حافظ محمد عثمان (گوڑ) صدر امدادی سوسائٹی اور فاخر انصاری جیولرز جیسے افراد کے نام سامنے ہیں۔
عوام کا اندرا پارک یا بااثر لوگوں کی پارکنگ؟ دیوبند میں عوامی پارک کی حالت پر اٹھنے لگے سوال
صدر کا انتخاب تین سے پانچ سال کے لیے ہونا چاہیے۔ رکنیت عام ہونی چاہیے۔ لائف ٹائم ممبر ایک لاکھ روپے اور عام ممبر تین سے پانچ ہزار روپے سالانہ ادا کرے۔ آمدنی کے ذرائع کھلیں، عیدگاہ کے اخراجات آسانی سے پورے ہوں، اور چور، اچکے، سڑک چھاپ، عادی مجرم، سزا یافتہ افراد اور جیل آنے جانے والے لوگ عید گاہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ سکیں۔
معافی اور معذرت کے ساتھ یہ سب لکھنا پڑ رہا ہے، خود شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ چند الفاظ آپ کی اور ہماری شان کے مطابق نہیں ہیں... آنے والی نسلیں آپ کو کس طرح یاد کریں گی؟ کیا اس طرح کہ ہمارے چند بڑوں نے اپنی مساجد، قبرستان اور عید گاہیں تھال میں رکھ کر باہر والوں کے حوالے کر دی تھیں؟ اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس عیدگاہ کو "منصور پور والوں کی عیدگاہ" کہا جانے لگے گا۔
آخری بات... آخرت کے بارے میں سوچو... کیا جواب دو گے؟
