رشوت لیتے ویڈیو میں قید ہوئے دروغہ جی! نابالغ لڑکی کے گھر والوں سے 30 ہزار لینے کا الزام، سرکاری پستول لے کر فرار
- "ایف آئی آر درج کرانی ہے تو پیسے دو" — خفیہ ویڈیونے کھولی دروغہ کی پول، ایس ایس پی کا بڑا ایکشن
- نابالغ لڑکی کے معاملے میں رشوت لینے کا الزام، مقدمہ درج ہوتے ہی چوکی انچارج فرار
علی گڑھ۔ اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے پولیس محکمہ کو شرمندہ کرنے والا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک پولیس افسر پر الزام ہے کہ اس نے ایک نابالغ لڑکی کے گھر والوں سے مقدمہ درج کرنے کے نام پر 30 ہزار روپے رشوت لی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یہ معاملہ لودھا تھانہ علاقے کا ہے، جہاں تعینات چوکی انچارج سب انسپکٹر روہت کمار تومر پر الزام ہے کہ انہوں نے چھیڑ چھاڑ کی شکار ایک 14 سالہ لڑکی کے اہل خانہ سے ایف آئی آر درج کرنے کے بدلے پیسے مانگے۔ گھر والوں کا یہ بھی الزام ہے کہ دروغہ نے ان پر دباؤ ڈال کر درخواست (تحریر) بھی تبدیل کروائی
دیوبند میں "سمپورن سمادھان دیوس" کے دوران 68 شکایات آئیں، صرف 5 کا حل؛ عوام کے سوال برقرار
معلومات کے مطابق 17 مئی کو ایک گاؤں میں 14 سالہ لڑکی کے ساتھ گھر میں گھس کر چھیڑ چھاڑ اور غلط حرکت کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ انصاف کی امید میں متاثرہ خاندان پولیس کے پاس پہنچا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کے بجائے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ الزام ہے کہ دروغہ نے خاندان کو ڈراتے ہوئے کہا کہ دوسرے فریق نے بھی ان کے خلاف شکایت دی ہے، اس لیے اگر وہ مشکل سے بچنا چاہتے ہیں تو ان کی بات ماننی ہوگی۔ بعد میں مقدمہ درج کرنے کے نام پر 30 ہزار روپے مانگے گئے۔
متاثرہ خاندان نے کئی بار تھانے کے چکر لگائے، لیکن مقدمہ درج نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے ثبوت جمع کرنے کا فیصلہ کیا الزام ہے کہ ایک سابق پردھان کے گھر پر جب دروغہ کو رقم دی جا رہی تھی تو اس وقت موبائل فون سے خفیہ ویڈیو بنا لی گئی۔ بعد میں یہ ویڈیو سیدھے ضلع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نیرج کمار جادون کو دکھائی گئی۔
ویڈیو اور شکایت ملنے کے بعد ایس ایس پی نے فوراً معاملے کی جانچ کے حکم دیے۔ جانچ ایس پی سٹی آدتیہ بنسل کو سونپی گئی ابتدائی جانچ میں متاثرہ خاندان کے الزامات اور ویڈیو کو درست پایا گیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی۔
جانچ رپورٹ آنے کے بعد سب انسپکٹر روہت کمار تومر کو فوراً معطل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا پولیس کے مطابق کارروائی کی خبر ملتے ہی دروغہ اپنی سرکاری پستول اور کارتوس لے کر فرار ہو گیا۔ اب اس کی گرفتاری کے لیے کئی پولیس ٹیمیں مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔
پولیس ایک طرف اس معاملے کی مکمل جانچ کر رہی ہے، تو دوسری طرف سرکاری اسلحہ لے کر فرار ہونے والے دروغہ کی تلاش بھی جاری ہے۔ اس کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے سرویلنس اور دیگر تکنیکی ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ پیش آئے واقعے میں انصاف دلانے کے بجائے رشوت لینے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف بدعنوانی ہی نہیں بلکہ پولیس نظام پر بھی ایک بڑا سوال ہوگا فلحال پولیس فرار دروغہ کی تلاش میں مصروف ہے اور پورا معاملہ زیرِ تفتیش ہے۔

