دیوبند-سانپلا روڈ پر جام ہی جام! فلائی اوور کے نیچے غیر قانونی ای رکشہ اسٹینڈ سے عوام پریشان
- فلائی اوور کے نیچے سڑک یا اڈہ؟ غیر قانونی رکشوں، ٹیکسیوں اور خیموں نے بڑھائی عوام کی مشکل
- کروڑوں کا فلائی اوور، لیکن نیچے بدانتظامی کا راج! جام اور تجاوزات پر عوام کے سخت سوال
دیوبند۔ دیوبند-سانپلا روڈ پر ان دنوں سفر کرنا لوگوں کے لیے بڑی پریشانی بنتا جا رہا ہے۔ فلائی اوور کے نیچے بڑھتی ہوئی تجاوزات اور بے ترتیب کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے ہر وقت جام جیسی صورتحال بنی رہتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس فلائی اوور کو عوام کو راحت دینے اور ٹریفک کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، آج اسی کے نیچے بدانتظامی کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ای رکشہ، ٹیکسی اور دیگر گاڑیاں سڑک پر اس طرح کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ آنے جانے والوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے نیچے کا حصہ آہستہ آہستہ غیر قانونی ای رکشہ اور ٹیکسی اسٹینڈ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ گاڑیاں سڑک کے کنارے منظم طریقے سے کھڑی کرنے کے بجائے راستے میں ہی روک دی جاتی ہیں، جس سے سڑک تنگ ہو جاتی ہے اور جام لگ جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر طلبہ، بزرگوں، خواتین اور روزانہ سفر کرنے والے لوگوں پر پڑ رہا ہے۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی بار کچھ نجی کمپنیاں اپنی تشہیری مہم کے لیے سڑک کے کنارے خیمے لگا دیتی ہیں۔ ان خیموں کے پاس لوگوں کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے، جس سے ٹریفک مزید متاثر ہوتی ہے اور جام کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مصروف ترین راستے پر اگر روزانہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو متعلقہ محکمے اس پر توجہ کیوں نہیں دے رہے؟
شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کوئی عام آدمی سڑک کنارے چھوٹی سی دکان لگا لے تو فوراً کارروائی ہو جاتی ہے، لیکن سڑک گھیر کر کھڑی گاڑیوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ بے ترتیب کھڑی گاڑیوں اور سڑک پر ہونے والی بھیڑ کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کئی بار گاڑی چلانے والوں کو اچانک بریک لگانی پڑتی ہے، جس سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے خرچ کر بنائے گئے فلائی اوور اور سڑکوں کا فائدہ تبھی ملے گا جب انہیں تجاوزات سے پاک رکھا جائے گا۔ اب دیوبند کی عوام کو ضلع انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں سے امید ہے کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور فلائی اوور کے نیچے پھیلی بدانتظامی کو ختم کرکے لوگوں کو جام سے نجات دلائیں گے۔
رپورٹ: دین رضا

