دیوبند کی سولر لائٹوں کا سچ کیا ہے؟ کھمبے کھڑے ہیں، لائٹیں غائب اور شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے
- 50 کروڑ کے بجٹ کے باوجود دیوبند اندھیرے میں! بجلی جاتے ہی سولر سسٹم کیوں ہو جاتا ہے بند؟
- 'بلیک اسپاٹ' ختم کرنے کا دعویٰ تھا، مگر پورا دیوبند ہی 'ڈارک زون' بنتا جا رہا ہے!
دیوبند۔ نگر پالیکا پریشد دیوبند کا سالانہ بجٹ تقریباً 50 کروڑ روپے بتایا جاتا ہے۔ ہر سال ترقیاتی کاموں، صفائی، سڑکوں اور روشنی کے انتظامات پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی شام ہوتی ہے اور بجلی چلی جاتی ہے، شہر کی اصل تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ دیوبند کے اہم راستے، چوراہے اور کئی محلوں کی گلیاں اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال ان سولر اسٹریٹ لائٹوں پر اٹھ رہا ہے جن کے نام پر گزشتہ کئی برسوں سے لاکھوں روپے خرچ ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے بہت سے سولر پول آج صرف کھمبے بن کر رہ گئے ہیں۔ کہیں سولر پینل ٹوٹے ہوئے ہیں، کہیں بیٹریاں غائب ہیں اور کہیں پوری لائٹ بند پڑی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بجلی چلی جاتی ہے تو یہی سولر لائٹیں کام آنی چاہئیں، لیکن حقیقت میں اکثر لائٹیں بند ملتی ہیں۔ ایسے میں لوگ سوال کر رہے ہیں کہ ان پر خرچ ہونے والی رقم آخر گئی کہاں؟
کچھ عرصہ پہلے شہر کے اندھیرے اور حساس علاقوں کو "بلیک اسپاٹ" قرار دے کر وہاں خصوصی سولر لائٹیں لگانے کے دعوے کیے گئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو محفوظ ماحول اور بہتر روشنی مل سکے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف وہ علاقے پوری طرح روشن ہو سکے بلکہ شہر کے کئی دوسرے حصے بھی اندھیرے کے مسئلے سے دوچار ہیں۔
عوام کے 5 بڑے سوال
- پہلا سوال: دیوبند میں اب تک کتنی سولر اسٹریٹ لائٹیں لگائی گئی ہیں؟ کیا ان کی کوئی مکمل فہرست عوام کے سامنے موجود ہے؟
- دوسرا سوال: جن سولر لائٹوں کے پینل ٹوٹ گئے یا بیٹریاں چوری ہو گئیں، ان کے بارے میں کیا کارروائی کی گئی؟
- تیسرا سوال: مرمت اور دیکھ بھال کے نام پر خرچ ہونے والا بجٹ آخر کہاں جا رہا ہے؟
- چوتھا سوال: نئی لگائی گئی کئی سولر لائٹیں چند مہینوں میں ہی خراب کیوں ہو گئیں؟
- پانچواں سوال: کئی جگہ دن میں لائٹ جلتی رہتی ہے اور رات میں بند ہو جاتی ہے، اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب روشنی کے شعبے سے سولر لائٹوں کی حالت یا ان پر ہونے والے خرچ کی معلومات مانگی جاتی ہیں تو واضح جواب نہیں ملتا۔ کئی بار شکایتوں کے باوجود خراب لائٹوں کی مرمت بھی نہیں ہوتی۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سولر لائٹ منصوبے کی مکمل تفصیلات اور اخراجات عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آ سکے۔
کھیڑا مغل علاقے میں چوروں کا قہر، ایک ہی رات میں چھ ٹیوب ویلوں سے اسٹارٹر اور کیبل چوری
شہر کی بند پڑی سولر لائٹیں صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ نگرانی، دیکھ بھال اور جوابدہی پر بھی سوال کھڑے کر رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف تصویریں کھنچوانے اور دعوے کرنے سے شہر روشن نہیں ہوتا۔ عوام ٹیکس اس لیے دیتی ہے کہ انہیں بنیادی سہولتیں مل سکیں، نہ کہ وہ اندھیرے میں مشکلات کا سامنا کریں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر میں لگی تمام سولر اسٹریٹ لائٹوں کی جانچ کرائی جائے، اخراجات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور اگر کہیں لاپروائی یا بے ضابطگی سامنے آئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
رپورٹ: دین رضا

