دیوبند میں یوپی اے ٹی ایس اور پنجاب ایس ٹی ایف کی بڑی کارروائی، موہالی بلاسٹ تحقیقات میں مشتبہ نوجوان حراست میں

 دیوبند میں یوپی اے ٹی ایس اور پنجاب ایس ٹی ایف کی بڑی کارروائی، موہالی بلاسٹ تحقیقات میں مشتبہ نوجوان حراست میں

  • پاکستان کنکشن کی جانچ تیز، واٹس ایپ او ٹی پی شیئر کرنے کے الزام میں دیوبند کا نوجوان ایجنسیوں کے ریڈار پر
  • سوشل میڈیا سے شروع ہونے والا رابطہ سیکیورٹی ایجنسیوں تک پہنچا، موہالی کیس کے تار دیوبند سے جڑے

سہارنپور/دیوبند۔ ملک کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے ایک بار پھر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب میں جاری حساس تحقیقات کے درمیان اتر پردیش اے ٹی ایس (UP ATS) اور پنجاب ایس ٹی ایف (Punjab STF) کی مشترکہ ٹیم نے ضلع سہارنپور کے دیوبند تھانہ علاقے کے گاؤں بچیٹی میں چھاپہ مار کر ایک مشتبہ نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق معاملہ سرحد پار موجود مشتبہ نیٹ ورک اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جانے والی سرگرمیوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 32 سالہ محمد محتشم کے طور پر ہوئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے متعلق تکنیکی معلومات اور او ٹی پی پاکستان میں موجود مشتبہ افراد کو فراہم کیے تھے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھارت میں مختلف افراد تک پیغامات پہنچائے گئے اور نیٹ ورک کو فعال رکھا گیا۔

خاکی پر داغ، رنگے ہاتھ دبوچا گیا داروغہ! سہارنپور میں اینٹی کرپشن ٹیم کا بڑا دھماکہ، 10,000 روپے کی گھوس لیتے ہوئے تیتِرو کا سب انسپکٹر گرفتار ​

کارروائی کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں نے نوجوان کے قبضے سے موبائل فون، الیکٹرانک آلات اور دیگر ڈیجیٹل مواد برآمد کیا ہے۔ تمام آلات کو فارنسک جانچ کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک کے دائرہ کار اور ممکنہ رابطوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی کڑیاں 3 جون کو پنجاب پولیس کی اسٹیٹ اسپیشل آپریشن سیل (SSOC) موہالی کی کارروائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس دوران پولیس نے موہالی کے وائی پی ایس چوک، فیز-7 علاقے سے منی سنگھ، ابھیشیک کمار، شہزاد بھٹی سمیت پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹر، بیٹریاں اور تاریں برآمد ہوئی تھیں۔

دیوبند پولیس کی ساکھ پر بٹھا لگاتی منگلور چوکی! چیکنگ کے نام پر عام جنتا سے وصولی، سٹوریوں پر مہربانیاں

پولیس پوچھ گچھ کے دوران گرفتار ملزم منی سنگھ نے انکشاف کیا کہ اس کا رابطہ دیوبند کے گاؤں بچیٹی کے رہائشی محمد محتشم سے تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ دونوں انسٹاگرام اور دیگر میسجنگ ایپس کے ذریعے ایک دوسرے کے رابطے میں آئے تھے۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر پنجاب پولیس نے یوپی اے ٹی ایس کے ساتھ معلومات شیئر کیں، جس کے بعد دیوبند میں یہ مشترکہ کارروائی انجام دی گئی۔

واضح رہے کہ مئی 2022 میں پنجاب کے موہالی واقع انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر پر راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ (RPG) حملہ ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد قومی سیکیورٹی ایجنسیاں مختلف ریاستوں میں پھیلے مشتبہ نیٹ ورکس اور ان کے معاونین پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دیوبند میں کی گئی تازہ کارروائی کو بھی اسی وسیع تحقیقات کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیکسی ہمارا، عیش تمہاری؟ دیوبند میونسپلٹی کے 46 کروڑ 58 لاکھ کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم

مقامی ذرائع کے مطابق محمد محتشم کے خلاف ماضی میں بھی چند مقدمات درج رہے ہیں، تاہم ان مقدمات کا موجودہ تحقیقات سے براہِ راست تعلق ہے یا نہیں، اس کی ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے

فی الحال یوپی اے ٹی ایس اور پنجاب ایس ٹی ایف معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیاں سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے چلائی جانے والی مشتبہ سرگرمیوں کے ہر پہلو کا جائزہ لے رہی ہیں۔ تحقیقات میں حاصل ہونے والی نئی معلومات کی بنیاد پر آئندہ دنوں میں دیگر ریاستوں میں بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: دین رضا

دین رضا

دیوبند (سہارنپور) سے تعلق رکھنے والا ایک آزاد صحافی۔ ڈی آر ڈی نیوز 24 اردو کے ذریعے غیر جانبدار، مستند اور بروقت خبریں عوام تک پہنچانے کے لیے کوشاں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی