کچرا، تکرار اور کہرام: دیوبند کے راجوپور میں معمولی بات پر چلے لاٹھی ڈنڈے، 3 زخمی!

کچرا، تکرار اور کہرام: دیوبند کے راجوپور میں معمولی بات پر چلے لاٹھی ڈنڈے، 3 زخمی!

دیوبند۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ 'پڑوسی ہی مشکل وقت میں سب سے پہلے کام آتا ہے'، لیکن کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتیں اور آپسی تال میل کی کمی پڑوسیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ ایسا ہی ایک حیران کن معاملہ اتر پردیش کے دیوبند سے سامنے آیا ہے، جہاں محض ایک نالی اور تھوڑے سے کچرے کو لے کر دو فریقین میں ایسا جھگڑا چھڑا کہ بات مار پیٹ تک پہنچ گئی۔ اس پورے ہنگامے میں ایک معصوم لڑکی سمیت تین لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

ٹیکسی ہمارا، عیش تمہاری؟ دیوبند میونسپلٹی کے 46 کروڑ 58 لاکھ کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم

​یہ پوری کہانی دیوبند کے کوتوالی علاقے کے تحت آنے والے راجوپور گاؤں کی ہے۔ معلومات کے مطابق، گاؤں کی ایک گلی میں مزمل اور نفیس کے خاندان آمنے سامنے رہتے ہیں۔ منگل کی صبح سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ نفیس کی 12 سالہ بیٹی شہلا اپنے گھر کے باہر گلی میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ شہلا نے گلی کو صاف کرنے کے چکر میں وہاں سے نکلا سارا کوڑا کرکٹ پاس ہی موجود نالی میں ڈال دیا۔

​ہندی صحافت کے دن کے موقع پر مذاکرہ اور تقریبِ اعزاز کا انعقاد

​کوڑا نالی میں جانے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ پوری طرح رک گیا۔ کچھ ہی دیر میں نالی کا گندا پانی سیدھے مزمل کے گھر کے ٹھیک سامنے جا کر جمع ہو گیا۔ اپنے گھر کے آگے گندا پانی جمع دیکھ کر مزمل کی بیوی سعیدہ باہر آئیں اور انہوں نے اس پر اعتراض جتایا۔ اس کے بعد نفیس کی بیوی رفعہ بھی سامنے آ گئیں۔ پہلے تو دونوں خواتین کے درمیان تیکھی بحث اور گالی گلوچ شروع ہوئی، لیکن غصہ اس قدر حاوی ہوا کہ دونوں کے بیچ لات گھونسے اور مار پیٹ شروع ہو گئی۔ اپنی ماں رفعہ کو بیچ سڑک پر پٹتا دیکھ کر 12 سال کی معصوم شہلا بھی اپنی ماں کو بچانے کے لیے اس جھگڑے میں کُود پڑی۔ لیکن تند و تیز ہو چکے اس تنازعے میں شہلا کو بھی چوٹیں آئیں اور وہ بھی زخمی ہو گئی۔ اس طرح اس معمولی تنازعے میں کل تین لوگ زخمی ہو گئے۔ جھگڑا شانت ہونے کے بعد گھر والوں نے زخمی خواتین اور لڑکی کو سنبھالا اور گاؤں کے ہی ایک نجی ڈاکٹر (پرائیویٹ ڈاکٹر) کے پاس لے گئے، جہاں ان کا ابتدائی علاج کیا گیا۔

​ناریل اور فیتے میں سمٹا ہوا 'ترقی' کا ڈھونگ: پیاسی عوام، مچھروں کا قہر اور 'اندھیرا قائم رہے' کا راج

​اس واقعے کو دیکھ کر یہ صاف ہوتا ہے کہ آج کے دور میں لوگوں کے اندر برداشت کرنے کی طاقت کتنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ جو مسئلہ محض نالی سے کچرا ہٹا کر یا امن و امان سے بات چیت کر کے حل ہو سکتا تھا، اس کے لیے پڑوسیوں نے قانون اور شرافت کو بالائے طاق رکھ دیا۔

دین رضا

دیوبند (سہارنپور) سے تعلق رکھنے والا ایک آزاد صحافی۔ ڈی آر ڈی نیوز 24 اردو کے ذریعے غیر جانبدار، مستند اور بروقت خبریں عوام تک پہنچانے کے لیے کوشاں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی